کلامِ میرردیف الف

موہ میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہا

۱

موہ میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہااس آستاں پہ مری خاک سے غبار رہا

۲

جنوں میں اب کے مجھے اپنے دل کا غم ہے پہ حیفخبر لی جب کہ نہ جامے میں ایک تار رہا

۳

بشر ہے وہ پہ کھلا جب سے اس کا دام زلفسر رہ اس کے فرشتے ہی کا شکار رہا

۴

کبھو نہ آنکھوں میں آیا وہ شوخ خواب کی طرحتمام عمر ہمیں اس کا انتظار رہا

۵

شراب عیش میسر ہوئی جسے اک شبپھر اس کو روز قیامت تلک خمار رہا

۶

بتاں کے عشق نے بے اختیار کر ڈالاوہ دل کہ جس کا خدائی میں اختیار رہا

۷

وہ دل کہ شام و سحر جیسے پکا پھوڑا تھاوہ دل کہ جس سے ہمیشہ جگر فگار رہا

۸

تمام عمر گئی اس پہ ہاتھ رکھتے ہمیںوہ دردناک علی الرغم بے قرار رہا

۹

ستم میں غم میں سرانجام اس کا کیا کہیےہزاروں حسرتیں تھیں تس پہ جی کو مار رہا

۱۰

بہا تو خون ہو آنکھوں کی راہ بہہ نکلارہا جو سینۂ سوزاں میں داغ دار رہا

۱۱

سو اس کو ہم سے فراموش کاریوں لے گئےکہ اس سے قطرۂ خوں بھی نہ یادگار رہا

۱۲

گلی میں اس کی گیا سو گیا نہ بولا پھرمیں میرؔ میرؔ کر اس کو بہت پکار رہا

۷۷ / ۵۸۲