نقش بیٹھے ہے کہاں خواہش آزادی کا

تو نے تلوار رکھی سر رکھا میں بندہ ہوںاپنی تسلیم کا بھی اور تری جلادی کا

About this couplet

This is couplet 3 of 6 in “⁨نقش بیٹھے ہے کہاں خواہش آزادی کا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۳ / ۶