کلامِ میرردیف الف
نقش بیٹھے ہے کہاں خواہش آزادی کا
۱
نقش بیٹھے ہے کہاں خواہش آزادی کاننگ ہے نام رہائی تری صیادی کا
۲
داد دے ورنہ ابھی جان پہ کھیلوں ہوں میںدل جلانا نہیں دیکھا کسی فریادی کا
۳
تو نے تلوار رکھی سر رکھا میں بندہ ہوںاپنی تسلیم کا بھی اور تری جلادی کا
۴
شہر کی سی رہی رونق اسی کے جیتے جیمر گیا قیس جو تھا خانہ خدا وادی کا
۵
شیخ کیا صورتیں رہتی تھیں بھلا جب تھا دیررو بہ ویرانی ہو اس کعبے کی آبادی کا
۶
ریختہ رتبے کو پہنچایا ہوا اس کا ہےمعتقد کون نہیں میرؔ کی استادی کا
۷۹ / ۵۸۲