پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیا
کچھ گل سے ہیں شگفتہ کچھ سرو سے ہیں قد کشاس کے خیال میں ہم دیکھے ہیں خواب کیا کیا
About this couplet
This is couplet 3 of 9 in “پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۳ / ۹