کلامِ میرردیف الف

پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیا

۱

پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیادل کو لگا کے ہم نے کھینچے عذاب کیا کیا

۲

کاٹے ہیں خاک اڑا کر جوں گرد باد برسوںگلیوں میں ہم ہوئے ہیں اس بن خراب کیا کیا

۳

کچھ گل سے ہیں شگفتہ کچھ سرو سے ہیں قد کشاس کے خیال میں ہم دیکھے ہیں خواب کیا کیا

۴

انواع جرم میرے پھر بے شمار و بے حدروز حساب لیں گے مجھ سے حساب کیا کیا

۵

اک آگ لگ رہی ہے سینوں میں کچھ نہ پوچھوجل جل کے ہم ہوئے ہیں اس بن کباب کیا کیا

۶

افراط شوق میں تو رویت رہی نہ مطلقکہتے ہیں میرے منہ پر اب شیخ و شاب کیا کیا

۷

پھر پھر گیا ہے آ کر منہ تک جگر ہمارےگزرے ہیں جان و دل پر یاں اضطراب کیا کیا

۸

آشفتہ اس کے گیسو جب سے ہوئے ہیں منہ پرتب سے ہمارے دل کو ہے پیچ و تاب کیا کیا

۹

کچھ سوجھتا نہیں ہے مستی میں میرؔ جی کوکرتے ہیں پوچ گوئی پی کر شراب کیا کیا

۸۵ / ۵۸۲