کیا میں بھی پریشانیٔ خاطر سے قریں تھا
کس رات نظر کی ہے سوئی چشمک انجمآنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا
About this couplet
This is couplet 2 of 7 in “کیا میں بھی پریشانیٔ خاطر سے قریں تھا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۲ / ۷