کلامِ میرردیف الف
کیا میں بھی پریشانیٔ خاطر سے قریں تھا
۱
کیا میں بھی پریشانیٔ خاطر سے قریں تھاآنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا
۲
کس رات نظر کی ہے سوئی چشمک انجمآنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا
۳
آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیے لیکنہونٹوں پہ مرے جب نفس باز پسیں تھا
۴
اب کوفت سے ہجراں کی جہاں تن پہ رکھا ہاتھجو درد و الم تھا سو کہے تو کہ وہیں تھا
۵
جانا نہیں کچھ جز غزل آ کر کے جہاں میںکل میرے تصرف میں یہی قطعۂ زمیں تھا
۶
نام آج کوئی یاں نہیں لیتا ہے انھوں کاجن لوگوں کے کل ملک یہ سب زیر نگیں تھا
۷
مسجد میں امام آج ہوا آ کے وہاں سےکل تک تو یہی میرؔ خرابات نشیں تھا
۹۲ / ۵۸۲