کلامِ میرردیف الف
کرتے ہی نہیں ترک بتاں طور جفا کا
۱
کرتے ہی نہیں ترک بتاں طور جفا کاشاید ہمیں دکھلاویں گے دیدار خدا کا
۲
ہے ابر کی چادر شفقی جوش سے گل کےمیخانے کے ہاں دیکھیے یہ رنگ ہوا کا
۳
بہتیری گرو جنس کلالوں کے پڑی ہےکیا ذکر ہے واعظ کے مصلیٰ و ردا کا
۴
مر جائے گا باتوں میں کوئی غم زدہ یوں ہیہر لحظہ نہ ہو ممتحن ارباب وفا کا
۵
تدبیر تھی تسکیں کے لیے لوگوں کی ورنہمعلوم تھا مدت سے ہمیں نفع دوا کا
۶
ہاتھ آئینہ رویوں سے اٹھا بیٹھیں نہ کیوں کربالعکس اثر پاتے تھے ہم اپنی دعا کا
۷
آنکھ اس کی نہیں آئینے کے سامنے ہوتیحیرت زدہ ہوں یار کی میں شرم و حیا کا
۸
برسوں سے تو یوں ہے کہ گھٹا جب امنڈ آئیتب دیدۂ تر سے بھی ہوا ایک جھڑاکا
۹
آنکھ اس سے نہیں اٹھنے کی صاحب نظروں کیجس خاک پہ ہوگا اثر اس کی کف پا کا
۱۰
تلوار کے سائے ہی میں کاٹے ہے تو اے میرؔکس دل زدہ کو ہوئے ہے یہ ذوق فنا کا
۹۸ / ۵۸۲