کلامِ میرردیف الف

کل چمن میں گل و سمن دیکھا

۱

کل چمن میں گل و سمن دیکھاآج دیکھا تو باغ بن دیکھا

۲

کیا ہے گلشن میں جو قفس میں نہیںعاشقوں کا جلا وطن دیکھا

۳

ذوق پیکان تیر میں تیرےمدتوں تک جگر نے چھن دیکھا

۴

گھر کے گھر جلتے تھے پڑے تیرےداغ دل دیکھے بس چمن دیکھا

۵

ایک چشمک دو صد سنان مژہاس نکیلے کا بانکپن دیکھا

۶

شکر زاہد کا اپنی آنکھوں میںمے عوض خرقہ مرتہن دیکھا

۷

حسرت اس کی جگہ تھی خوابیدہمیرؔ کا کھول کر کفن دیکھا

۹۷ / ۵۸۲