رمق ایک جان وبال ہے کوئی دم جو ہے تو عذاب ہے

رکھو آرزو مئے خام کی کرو گفتگو خط جام کیکہ سیاہ کاروں سے حشر میں نہ حساب ہے نہ کتاب ہے

About this couplet

This is couplet 11 of 12 in “⁨رمق ایک جان وبال ہے کوئی دم جو ہے تو عذاب ہے⁩” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۱۱ / ۱۲