کلامِ میرردیف ے
رمق ایک جان وبال ہے کوئی دم جو ہے تو عذاب ہے
رمق ایک جان وبال ہے کوئی دم جو ہے تو عذاب ہےدل داغ گشتہ کباب ہے جگر گداختہ آب ہے
مری خلق محو کلام سب مجھے چھوڑتے ہیں خموش کبمرا حرف رشک کتاب ہے مری بات لکھنے کا باب ہے
جو وہ لکھتا کچھ بھی تو نامہ بر کوئی رہتی منہ میں ترے نہاںتری خامشی سے یہ نکلے ہے کہ جواب خط کا جواب ہے
رہے حال دل کا جو ایک سا تو رجوع کرتے کہیں بھلاسو تو یہ کبھو ہمہ داغ ہے کبھو نیم سوز کباب ہے
کہیں گے کہو تمہیں لوگ کیا یہی آرسی یہی تم سدانہ کسو کی تم کو ہے ٹک حیا نہ ہمارے منہ سے حجاب ہے
چلو میکدے میں بسر کریں کہ رہی ہے کچھ برکت وہیںلب نا توواں کا کباب ہے دم آب واں کا شراب ہے
نہیں کھلتیں آنکھیں تمہاری ٹک کہ مآل پر بھی نظر کرویہ جو وہم کی سی نمود ہے اسے خوب دیکھو تو خواب ہے
گئے وقت آتے ہیں ہاتھ کب ہوئے ہیں گنوا کے خراب سبتجھے کرنا ہووے سو کر تو اب کہ یہ عمر برق شتاب ہے
کبھو لطف سے نہ سخن کیا کبھو بات کہہ نہ لگا لیایہی لحظہ لحظہ خطاب ہے وہی لمحہ لمحہ عتاب ہے
تو جہاں کے بحر عمیق میں سر پر ہوا نہ بلند کرکہ یہ پنج روزہ جو بود ہے کسو موج پر کا حباب ہے
رکھو آرزو مئے خام کی کرو گفتگو خط جام کیکہ سیاہ کاروں سے حشر میں نہ حساب ہے نہ کتاب ہے
مرا شور سن کے جو لوگوں نے کیا پوچھنا تو کہے ہے کیاجسے میرؔ کہتے ہیں صاحبو یہ وہی تو خانہ خراب ہے
۲۸۶ / ۵۸۲