رمق ایک جان وبال ہے کوئی دم جو ہے تو عذاب ہے
جو وہ لکھتا کچھ بھی تو نامہ بر کوئی رہتی منہ میں ترے نہاںتری خامشی سے یہ نکلے ہے کہ جواب خط کا جواب ہے
About this couplet
This is couplet 3 of 12 in “رمق ایک جان وبال ہے کوئی دم جو ہے تو عذاب ہے” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۳ / ۱۲