طاقت نہیں ہے دل میں نے جی بجا رہا ہے
وے لطف کی نگاہیں پہلے فریب ہیں سبکس سے وہ بے مروت پھر آشنا رہا ہے
About this couplet
This is couplet 8 of 11 in “طاقت نہیں ہے دل میں نے جی بجا رہا ہے” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۸ / ۱۱