کلامِ میرردیف ے

طاقت نہیں ہے دل میں نے جی بجا رہا ہے

۱

طاقت نہیں ہے دل میں نے جی بجا رہا ہےکیا ناز کر رہے ہو اب ہم میں کیا رہا ہے

۲

جیب اور آستیں سے رونے کا کام گزراسارا نچوڑ اب تو دامن پر آ رہا ہے

۳

اب چیت گر نہیں کچھ تازہ ہوا ہوں بیکلآیا ہوں جب بہ خود میں جی اس میں جا رہا ہے

۴

کاہے کا پاس اب تو رسوائی دور پہنچیراز محبت اپنا کس سے چھپا رہا ہے

۵

گرد رہ اس کی یا رب کس اور سے اٹھے گیسو سو غزال ہر سو آنکھیں لگا رہا ہے

۶

بندے تو طرحدار وہیں طرح کش تمہارےپھر چاہتے ہو کیا تم اب اک خدا رہا ہے

۷

دیکھ اس دہن کو ہر دم اے آرسی کہ یوں ہیخوبی کا در کسو کے منہ پر بھی وا رہا ہے

۸

وے لطف کی نگاہیں پہلے فریب ہیں سبکس سے وہ بے مروت پھر آشنا رہا ہے

۹

اتنا خزاں کرے ہے کب زرد رنگ پر یاںتو بھی کسو نگہ سے اے گل جدا رہا ہے

۱۰

رہتے ہیں داغ اکثر نان و نمک کی خاطرجینے کا اس سمیں میں اب کیا مزہ رہا ہے

۱۱

اب چاہتا نہیں ہے بوسہ جو تیرے لب سےجینے سے میرؔ شاید کچھ دل اٹھا رہا ہے

۲۸۸ / ۵۸۲