کلامِ میرردیف ے

غالب کہ یہ دل خستہ شب ہجر میں مر جائے

۱

غالب کہ یہ دل خستہ شب ہجر میں مر جائےیہ رات نہیں وہ جو کہانی میں گزر جائے

۲

ہے طرفہ مفتن نگہ اس آئنہ رو کیاک پل میں کرے سینکڑوں خوں اور مکر جائے

۳

نے بت کدہ ہے منزل مقصود نہ کعبہجو کوئی تلاشی ہو ترا آہ کدھر جائے

۴

ہر صبح تو خورشید ترے منہ پہ چڑھے ہےایسا نہ ہو یہ سادہ کہیں جی سے اتر جائے

۵

یاقوت کوئی ان کو کہے ہے کوئی گلبرگٹک ہونٹ ہلا تو بھی کہ اک بات ٹھہر جائے

۶

ہم تازہ شہیدوں کو نہ آ دیکھنے نازاںدامن کی تری زہ کہیں لوہو میں نہ بھر جائے

۷

گریے کو مرے دیکھ ٹک اک شہر کے باہراک سطح ہے پانی کا جہاں تک کہ نظر جائے

۸

مت بیٹھ بہت عشق کے آزردہ دلوں میںنالہ کسو مظلوم کا تاثیر نہ کر جائے

۹

اس ورطے سے تختہ جو کوئی پہنچے کنارےتو میرؔ وطن میرے بھی شاید یہ خبر جائے

۲۹۳ / ۵۸۲