کلامِ میرردیف ے

فقیرانہ آئے صدا کر چلے

۱

فقیرانہ آئے صدا کر چلےکہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے

۲

جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہمسو اس عہد کو اب وفا کر چلے

۳

شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھیکہ مقدور تک تو دوا کر چلے

۴

پڑے ایسے اسباب پایان کارکہ ناچار یوں جی جلا کر چلے

۵

وہ کیا چیز ہے آہ جس کے لیےہر اک چیز سے دل اٹھا کر چلے

۶

کوئی ناامیدانہ کرتے نگاہسو تم ہم سے منہ بھی چھپا کر چلے

۷

بہت آرزو تھی گلی کی تریسو یاں سے لہو میں نہا کر چلے

۸

دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیاہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے

۹

جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئیحق بندگی ہم ادا کر چلے

۱۰

پرستش کی یاں تک کہ اے بت تجھےنظر میں سبھوں کی خدا کر چلے

۱۱

جھڑے پھول جس رنگ گلبن سے یوںچمن میں جہاں کے ہم آ کر چلے

۱۲

نہ دیکھا غم دوستاں شکر ہےہمیں داغ اپنا دکھا کر چلے

۱۳

گئی عمر در بند فکر غزلسو اس فن کو ایسا بڑا کر چلے

۱۴

کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میرؔجہاں میں تم آئے تھے کیا کر چلے

۲۹۲ / ۵۸۲