کلامِ میرردیف ے

عمر بھر ہم رہے شرابی سے

۱

عمر بھر ہم رہے شرابی سےدل پر خوں کی اک گلابی سے

۲

جی ڈھا جائے ہے سحر سے آہرات گزرے گی کس خرابی سے

۳

کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہےاس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے

۴

برقعہ اٹھتے ہی چاند سا نکلاداغ ہوں اس کی بے حجابی سے

۵

کام تھے عشق میں بہت پر میرؔہم ہی فارغ ہوئے شتابی سے

۲۹۵ / ۵۸۲