کلامِ میرردیف ے
قیامت ہیں یہ چسپاں جامے والے
۱
قیامت ہیں یہ چسپاں جامے والےگلوں نے جن کی خاطر خرقے ڈالے
۲
وہ کالا چور ہے خال رخ یارکہ سو آنکھوں میں دل ہو تو چرا لے
۳
نہیں اٹھتا دل محزوں کا ماتمخدا ہی اس مصیبت سے نکالے
۴
کہاں تک دور بیٹھے بیٹھے کہیےکبھو تو پاس ہم کو بھی بلا لے
۵
دلا بازی نہ کر ان گیسوؤں سےنہیں آساں کھلانے سانپ کالے
۶
تپش نے دل جگر کی مار ڈالابغل میں دشمن اپنے ہم نے پالے
۷
نہ مہکے بوئے گل اے کاش یک چندابھی زخم جگر سارے ہیں آلے
۸
کسے قید قفس میں یاد گل کیپڑے ہیں اب تو جینے ہی کے لالے
۹
ستایا میرؔ غم کش کو کنھوں نےکہ پھر اب عرش تک جاتے ہیں نالے
۲۹۶ / ۵۸۲