کچھ تو کہہ وصل کی پھر رات چلی جاتی ہے
کچھ تو کہہ وصل کی پھر رات چلی جاتی ہےدن گزر جائیں ہیں پر بات چلی جاتی ہے
About this couplet
This is couplet 1 of 10 in “کچھ تو کہہ وصل کی پھر رات چلی جاتی ہے” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۱ / ۱۰