کلامِ میرردیف ے

کچھ تو کہہ وصل کی پھر رات چلی جاتی ہے

۱

کچھ تو کہہ وصل کی پھر رات چلی جاتی ہےدن گزر جائیں ہیں پر بات چلی جاتی ہے

۲

رہ گئے گاہ تبسم پہ گہے بات ہی پربارے اے ہم نشیں اوقات چلی جاتی ہے

۳

ٹک تو وقفہ بھی کر اے گردش دوراں کہ یہ جانعمر کے حیف ہی کیا سات چلی جاتی ہے

۴

یاں تو آتی نہیں شطرنج زمانہ کی چالاور واں بازی ہوئی مات چلی جاتی ہے

۵

روز آنے پہ نہیں نسبت عشقی موقوفعمر بھر ایک ملاقات چلی جاتی ہے

۶

شیخ بے نفس کو نزلہ نہیں ہے ناک کی راہیہ ہے جریان منی دھات چلی جاتی ہے

۷

خرقہ مندیل و ردا مست لیے جاتے ہیںشیخ کی ساری کرامات چلی جاتی ہے

۸

ہے مؤذن جو بڑا مرغ مصلی اس کیمستوں سے نوک ہی کی بات چلی جاتی ہے

۹

پاؤں رکتا نہیں مسجد سے دم آخر بھیمرنے پر آیا ہے پر لات چلی جاتی ہے

۱۰

ایک ہم ہی سے تفاوت ہے سلوکوں میں میرؔیوں تو اوروں کی مدارات چلی جاتی ہے

۳۱۷ / ۵۸۲