کلامِ میرردیف ے
ہو عاجز کہ جسم اس قدر زور سے
۱
ہو عاجز کہ جسم اس قدر زور سےنہ نکلا کبھو عہدۂ مور سے
۲
بہت دور کوئی رہا ہے مگرکہ فریاد میں ہے جرس شور سے
۳
مری خاک تفتہ پر اے ابر ترقسم ہے تجھے ٹک برس زور سے
۴
ترے دل جلے کو رکھا جس گھڑیدھواں سا اٹھا کچھ لب گور سے
۵
نہ پوچھو کہ بے اعتباری سے میںہوا اس گلی میں بتر چور سے
۶
نہیں سوجھتا کچھ جو اس بن ہمیںبغیر اس کے رہتے ہیں ہم کور سے
۷
جو ہو میرؔ بھی اس گلی میں صبابہت پوچھیو تو مری اور سے
۳۳۲ / ۵۸۲