کلامِ میرردیف ے
یاں سرکشاں جو صاحب تاج و لوا ہوئے
۱
یاں سرکشاں جو صاحب تاج و لوا ہوئےپامال ہو گئے تو نہ جانا کہ کیا ہوئے
۲
دیکھی نہ ایک چشمک گل بھی چمن میں آہہم آخر بہار قفس سے رہا ہوئے
۳
پچھتاؤ گے بہت جو گئے ہم جہاں سےآدم کی قدر ہوتی ہے ظاہر جدا ہوئے
۴
تجھ بن دماغ صحبت اہل چمن نہ تھاگل وا ہوئے ہزار ولے ہم نہ وا ہوئے
۵
سر دے کے میرؔ ہم نے فراغت کی عشق میںذمے ہمارے بوجھ تھا بارے ادا ہوئے
۳۳۱ / ۵۸۲