فکر ہے ماہ کے جو شہر بدر کرنے کی
اب کے برسات ہی کے ذمے تھا عالم کا وبالمیں تو کھائی تھی قسم چشم کے تر کرنے کی
About this couplet
This is couplet 4 of 8 in “فکر ہے ماہ کے جو شہر بدر کرنے کی” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۴ / ۸