کلامِ میرردیف ی
فکر ہے ماہ کے جو شہر بدر کرنے کی
۱
فکر ہے ماہ کے جو شہر بدر کرنے کیہے سزا تجھ پہ یہ گستاخ نظر کرنے کی
۲
کہہ حدیث آنے کی اس کے جو کیا شادی مرگنامہ بر کیا چلی تھی ہم کو خبر کرنے کی
۳
کیا جلی جاتی ہے خوبی ہی میں اپنی اے شمعکہہ پتنگے کے بھی کچھ شام و سحر کرنے کی
۴
اب کے برسات ہی کے ذمے تھا عالم کا وبالمیں تو کھائی تھی قسم چشم کے تر کرنے کی
۵
پھول کچھ لیتے نہ نکلے تھے دل صد پارہطرز سیکھی ہے مرے ٹکڑے جگر کرنے کی
۶
ان دنوں نکلے ہے آغشتہ بہ خوں راتوں کودھن ہے نالے کو کسو دل میں اثر کرنے کی
۷
عشق میں تیرے گزرتی نہیں بن سر پٹکےصورت اک یہ رہی ہے عمر بسر کرنے کی
۸
کاروانی ہے جہاں عمر عزیز اپنی میرؔرہ ہے درپیش سدا اس کو سفر کرنے کی
۲۴۲ / ۵۸۲