کلامِ میرردیف ف
جو دیکھو مرے شعر تر کی طرف
۱
جو دیکھو مرے شعر تر کی طرفتو مائل نہ ہو پھر گہر کی طرف
۲
کوئی داد دل آہ کس سے کرےہر اک ہے سو اس فتنہ گر کی طرف
۳
محبت نے شاید کہ دی دل کو آگدھواں سا ہے کچھ اس نگر کی طرف
۴
لگیں ہیں ہزاروں ہی آنکھیں ادھراک آشوب ہے اس کے گھر کی طرف
۵
بہت رنگ ملتا ہے دیکھو کبھوہماری طرف سے سحر کی طرف
۶
بہ خود کس کو اس تاب رخ نے رکھاکرے کون شمس و قمر کی طرف
۷
نہ سمجھا گیا ابر کیا دیکھ کرہوا تھا مری چشم تر کی طرف
۸
ٹپکتا ہے پلکوں سے خوں متصلنہیں دیکھتے ہم جگر کی طرف
۹
مناسب نہیں حال عاشق سے صبررکھے ہے یہ دارو ضرر کی طرف
۱۰
کسے منزل دل کش دہر میںنہیں میل خاطر سفر کی طرف
۱۱
رگ جاں کب آتی ہے آنکھوں میں میرؔگئے ہیں مزاج اس کمر کی طرف
۱۵۰ / ۵۸۲