کلامِ میرردیف ق
کیا حقیقت کہوں کہ کیا ہے عشق
۱
کیا حقیقت کہوں کہ کیا ہے عشقحق شناسوں کے ہاں خدا ہے عشق
۲
دل لگا ہو تو جی جہاں سے اٹھاموت کا نام پیار کا ہے عشق
۳
اور تدبیر کو نہیں کچھ دخلعشق کے درد کی دوا ہے عشق
۴
کیا ڈبایا محیط میں غم کےہم نے جانا تھا آشنا ہے عشق
۵
عشق سے جا نہیں کوئی خالیدل سے لے عرش تک بھرا ہے عشق
۶
کوہ کن کیا پہاڑ کاٹے گاپردے میں زور آزما ہے عشق
۷
عشق ہے عشق کرنے والوں کوکیسا کیسا بہم کیا ہے عشق
۸
کون مقصد کو عشق بن پہنچاآرزو عشق مدعا ہے عشق
۹
میرؔ مرنا پڑے ہے خوباں پرعشق مت کر کہ بد بلا ہے عشق
۱۵۱ / ۵۸۲