شہر سے یار سوار ہوا جو سواد میں خوب غبار ہے آج
آنکھیں اس کی لال ہوئیں ہیں اور چلے جاتے ہیں سررات کو دارو پی سویا تھا اس کا صبح خمار ہے آج
About this couplet
This is couplet 4 of 9 in “شہر سے یار سوار ہوا جو سواد میں خوب غبار ہے آج” in the section Ghazals — Radeef Jeem, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۴ / ۹