کلامِ میرردیف ج

شہر سے یار سوار ہوا جو سواد میں خوب غبار ہے آج

۱

شہر سے یار سوار ہوا جو سواد میں خوب غبار ہے آجدشتی وحش و طیر اس کے سر تیزی ہی میں شکار ہے آج

۲

بر افروختہ رخ ہے اس کا کس خوبی سے مستی میںپی کے شراب شگفتہ ہوا ہے اس نو گل پہ بہار ہے آج

۳

اس کا بحر حسن سراسر اوج و موج و تلاطم ہےشوق کی اپنے نگاہ جہاں تک جاوے بوس و کنار ہے آج

۴

آنکھیں اس کی لال ہوئیں ہیں اور چلے جاتے ہیں سررات کو دارو پی سویا تھا اس کا صبح خمار ہے آج

۵

گھر آئے ہو فقیروں کے تو آؤ بیٹھو لطف کروکیا ہے جان بن اپنے کنے سو ان قدموں پہ نثار ہے آج

۶

کیا پوچھو ہو سانجھ تلک پہلو میں کیا کیا تڑپا ہےکل کی نسبت دل کو ہمارے بارے کچھ تو قرار ہے آج

۷

خوب جو آنکھیں کھول کے دیکھا شاخ گل سا نظر آیاان رنگوں پھولوں میں ملا کچھ محو جلوۂ یار ہے آج

۸

جذب عشق جدھر چاہے لے جائے ہے محمل لیلیٰ کایعنی ہاتھ میں مجنوں کے ناقے کی اس کے مہار ہے آج

۹

رات کا پہنا ہار جو اب تک دن کو اتارا ان نے نہیںشاید میرؔ جمال گل بھی اس کے گلے کا ہار ہے آج

۱۲۹ / ۵۸۲