کلامِ میرردیف ج
شہر سے یار سوار ہوا جو سواد میں خوب غبار ہے آج
شہر سے یار سوار ہوا جو سواد میں خوب غبار ہے آجدشتی وحش و طیر اس کے سر تیزی ہی میں شکار ہے آج
بر افروختہ رخ ہے اس کا کس خوبی سے مستی میںپی کے شراب شگفتہ ہوا ہے اس نو گل پہ بہار ہے آج
اس کا بحر حسن سراسر اوج و موج و تلاطم ہےشوق کی اپنے نگاہ جہاں تک جاوے بوس و کنار ہے آج
آنکھیں اس کی لال ہوئیں ہیں اور چلے جاتے ہیں سررات کو دارو پی سویا تھا اس کا صبح خمار ہے آج
گھر آئے ہو فقیروں کے تو آؤ بیٹھو لطف کروکیا ہے جان بن اپنے کنے سو ان قدموں پہ نثار ہے آج
کیا پوچھو ہو سانجھ تلک پہلو میں کیا کیا تڑپا ہےکل کی نسبت دل کو ہمارے بارے کچھ تو قرار ہے آج
خوب جو آنکھیں کھول کے دیکھا شاخ گل سا نظر آیاان رنگوں پھولوں میں ملا کچھ محو جلوۂ یار ہے آج
جذب عشق جدھر چاہے لے جائے ہے محمل لیلیٰ کایعنی ہاتھ میں مجنوں کے ناقے کی اس کے مہار ہے آج
رات کا پہنا ہار جو اب تک دن کو اتارا ان نے نہیںشاید میرؔ جمال گل بھی اس کے گلے کا ہار ہے آج
۱۲۹ / ۵۸۲