وحشت تھی ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تک
وحشت تھی ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تکسر مارے ہیں اپنے در و دیوار سے اب تک
About this couplet
This is couplet 1 of 7 in “وحشت تھی ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تک” in the section Ghazals — Radeef Kaaf, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۱ / ۷