کلامِ میرردیف ک
وحشت تھی ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تک
۱
وحشت تھی ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تکسر مارے ہیں اپنے در و دیوار سے اب تک
۲
مرتے ہی سنا ان کو جنہیں دل لگی کچھ تھیاچھا ہوا کوئی اس آزار سے اب تک
۳
جب سے لگی ہیں آنکھیں کھلی راہ تکے ہیںسوئے نہیں ساتھ اس کے کبھو پیار سے اب تک
۴
آیا تھا کبھو یار سو معمول ہم اس کےبستر پہ گرے رہتے ہیں بیمار سے اب تک
۵
بد عہدیوں میں وقت وفات آن بھی پہنچاوعدہ نہ ہوا ایک وفا یار سے اب تک
۶
ہے قہر و غضب دیکھ طرف کشتے کے ظالمکرتا ہے اشارت بھی تو تلوار سے اب تک
۷
کچھ رنج دلی میرؔ جوانی میں کھنچا تھازردی نہیں جاتی مرے رخسار سے اب تک
۱۵۵ / ۵۸۲