وحشت تھی ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تک
ہے قہر و غضب دیکھ طرف کشتے کے ظالمکرتا ہے اشارت بھی تو تلوار سے اب تک
About this couplet
This is couplet 6 of 7 in “وحشت تھی ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تک” in the section Ghazals — Radeef Kaaf, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۶ / ۷