ہیں بعد مرے مرگ کے آثار سے اب تک

ابرو ہی کی جنبش نے یہ ستھراؤ کیے ہیںمارا نہیں ان نے کوئی تلوار سے اب تک

About this couplet

This is couplet 4 of 12 in “⁨ہیں بعد مرے مرگ کے آثار سے اب تک⁩” in the section Ghazals — Radeef Kaaf, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۴ / ۱۲