کلامِ میرردیف ک
ہیں بعد مرے مرگ کے آثار سے اب تک
ہیں بعد مرے مرگ کے آثار سے اب تکسوکھا نہیں لوہو در و دیوار سے اب تک
رنگینیٔ عشق اس کے ملے پر ہوئی معلومصحبت نہ ہوئی تھی کسی خونخوار سے اب تک
کب سے متحمل ہے جفاؤں کا دل زارزنہار وفا ہو نہ سکی یار سے اب تک
ابرو ہی کی جنبش نے یہ ستھراؤ کیے ہیںمارا نہیں ان نے کوئی تلوار سے اب تک
وعدہ بھی قیامت کا بھلا کوئی ہے وعدہپر دل نہیں خالی غم دیدار سے اب تک
مدت ہوئی گھٹ گھٹ کے ہمیں شہر میں مرتےواقف نہ ہوا کوئی اس اسرار سے اب تک
برسوں ہوئے دل سوختہ بلبل کو موئے لیکاک دود سا اٹھتا ہے چمن زار سے اب تک
کیا جانیے ہوتے ہیں سخن لطف کے کیسےپوچھا نہیں ان نے تو ہمیں پیار سے اب تک
اس باغ میں اغلب ہے کہ سرزد نہ ہوا ہویوں نالہ کسو مرغ گرفتار سے اب تک
خط آئے پہ بھی دن ہے سیہ تم سے ہماراجاتا نہیں اندھیر یہ سرکار سے اب تک
نکلا تھا کہیں وہ گل نازک شب مہ میںسو کوفت نہیں جاتی ہے رخسار سے اب تک
دیکھا تھا کہیں سایہ ترے قد کا چمن میںہیں میرؔ جی آوارہ پری دار سے اب تک
۱۵۷ / ۵۸۲