جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں
کیا تیر ستم اس کے سینے میں بھی ٹوٹے تھےجس زخم کو چیروں ہوں پیکان نکلتے ہیں
About this couplet
This is couplet 2 of 9 in “جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۲ / ۹