کلامِ میرردیف ن
جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں
۱
جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیںاس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیں
۲
کیا تیر ستم اس کے سینے میں بھی ٹوٹے تھےجس زخم کو چیروں ہوں پیکان نکلتے ہیں
۳
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوںتب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
۴
کس کا ہے قماش ایسا گودڑ بھرے ہیں سارےدیکھو نہ جو لوگوں کے دیوان نکلتے ہیں
۵
گہ لوہو ٹپکتا ہے گہ لخت دل آنکھوں سےیا ٹکڑے جگر ہی کے ہر آن نکلتے ہیں
۶
کریے تو گلہ کس سے جیسی تھی ہمیں خواہشاب ویسے ہی یہ اپنے ارمان نکلتے ہیں
۷
جاگہ سے بھی جاتے ہو منہ سے بھی خشن ہو کروے حرف نہیں ہیں جو شایان نکلتے ہیں
۸
سو کاہے کو اپنی تو جوگی کی سی پھیری ہےبرسوں میں کبھو ایدھر ہم آن نکلتے ہیں
۹
ان آئینہ رویوں کے کیا میرؔ بھی عاشق ہیںجب گھر سے نکلتے ہیں حیران نکلتے ہیں
۱۷۵ / ۵۸۲