دعوے کو یار آگے معیوب کر چکے ہیں
ہنگامۂ قیامت تازہ نہیں جو ہوگاہم اس طرح کے کتنے آشوب کر چکے ہیں
About this couplet
This is couplet 4 of 8 in “دعوے کو یار آگے معیوب کر چکے ہیں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۴ / ۸