کلامِ میرردیف ن

دعوے کو یار آگے معیوب کر چکے ہیں

۱

دعوے کو یار آگے معیوب کر چکے ہیںاس ریختے کو ورنہ ہم خوب کر چکے ہیں

۲

مرنے سے تم ہمارے خاطر نچنت رکھیواس کام کا بھی ہم کچھ اسلوب کر چکے ہیں

۳

حسن کلام کھینچے کیوں کر نہ دامن دلاس کام کو ہم آخر محبوب کر چکے ہیں

۴

ہنگامۂ قیامت تازہ نہیں جو ہوگاہم اس طرح کے کتنے آشوب کر چکے ہیں

۵

رنگ پریدہ قاصد باد سحر کبوترکس کس کے ہم حوالے مکتوب کر چکے ہیں

۶

تنکا نہیں رہا ہے کیا اب نثار کریےآگے ہی ہم تو گھر کو جاروب کر چکے ہیں

۷

ہر لحظہ ہے تزاید رنج و غم و الم کاغالب کہ طبع دل کو مغلوب کر چکے ہیں

۸

کیا جانیے کہ کیا ہے اے میرؔ وجہ ضد کیسو بار ہم تو اس کو محجوب کر چکے ہیں

۱۸۶ / ۵۸۲