کلامِ میرردیف ن
کہتے ہیں بہار آئی گل پھول نکلتے ہیں
۱
کہتے ہیں بہار آئی گل پھول نکلتے ہیںہم کنج قفس میں ہیں دل سینوں میں جلتے ہیں
۲
اب ایک سی بے ہوشی رہتی نہیں ہے ہم کوکچھ دل بھی سنبھلتے ہیں پر دیر سنبھلتے ہیں
۳
وہ تو نہیں اک چھینٹا رونے کا ہوا گاہےاب دیدۂ تر اکثر دریا سے ابلتے ہیں
۴
ان پاؤں کو آنکھوں سے ہم ملتے رہے جیساافسوس سے ہاتھوں کو اب ویسا ہی ملتے ہیں
۵
کیا کہیے کہ اعضا سب پانی ہوئے ہیں اپنےہم آتش ہجراں میں یوں ہی پڑے گلتے ہیں
۶
کرتے ہیں صفت جب ہم لعل لب جاناں کیتب کوئی ہمیں دیکھے کیا لعل اگلتے ہیں
۷
گل پھول سے بھی اپنے دل تو نہیں لگتے ٹکجی لوگوں کے بے جاناں کس طور بہلتے ہیں
۸
ہیں نرم صنم گو نہ کہنے کے تئیں ورنہپتھر ہیں انھوں کے دل کاہے کو پگھلتے ہیں
۹
اے گرم سفر یاراں جو ہے سو سر رہ ہےجو رہ سکو رہ جاؤ اب میرؔ بھی چلتے ہیں
۲۰۲ / ۵۸۲