کلامِ میرردیف ن
کہے ہے کوہ کن کر فکر میری خستہ حالی میں
۱
کہے ہے کوہ کن کر فکر میری خستہ حالی میںالٰہی شکر کرتا ہوں تری درگاہ عالی میں
۲
میں وہ پژمردہ سبزہ ہوں کہ ہو کر خاک سے سرزدیکایک آ گیا اس آسماں کی پائمالی میں
۳
تو سچ کہہ رنگ پاں ہے یہ کہ خون عشق بازاں ہےسخن رکھتے ہیں کتنے شخص تیرے لب کی لالی میں
۴
برا کہنا بھی میرا خوش نہ آیا اس کو تو ورنہتسلی یہ دل ناشاد ہوتا ایک گالی میں
۵
مرے استاد کو فردوس اعلیٰ میں ملے جاگاپڑھایا کچھ نہ غیر از عشق مجھ کو خوردسالی میں
۶
خرابی عشق سے رہتی ہے دل پر اور نہیں رہتانہایت عیب ہے یہ اس دیار غم کے والی میں
۷
نگاہ چشم پر خشم بتاں پر مت نظر رکھناملا ہے زہر اے دل اس شراب پرتگالی میں
۸
شراب خون بن تڑپوں سے دل لبریز رہتا ہےبھرے ہیں سنگ ریزے میں نے اس مینائے خالی میں
۹
خلاف ان اور خوباں کے سدا یہ جی میں رہتا ہےیہی تو میرؔ اک خوبی ہے معشوق خیالی میں
۲۰۳ / ۵۸۲