ہجراں کی کوفت کھینچے بے دم سے ہو چلے ہیں

لبریز اشک آنکھیں ہر بات میں رہا کیںرو رو کے کام اپنے سب ہم ڈبو چلے ہیں

About this couplet

This is couplet 3 of 5 in “⁨ہجراں کی کوفت کھینچے بے دم سے ہو چلے ہیں⁩” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۳ / ۵