کلامِ میرردیف ن
ہجراں کی کوفت کھینچے بے دم سے ہو چلے ہیں
۱
ہجراں کی کوفت کھینچے بے دم سے ہو چلے ہیںسر مار مار یعنی اب ہم بھی سو چلے ہیں
۲
جویں رہیں گی جاری گلشن میں ایک مدتسائے میں ہر شجر کے ہم زور رو چلے ہیں
۳
لبریز اشک آنکھیں ہر بات میں رہا کیںرو رو کے کام اپنے سب ہم ڈبو چلے ہیں
۴
پچھتائیے نہ کیونکر جی اس طرح سے دے کریہ گوہر گرامی ہم مفت کھو چلے ہیں
۵
قطع طریق مشکل ہے عشق کا نہایتوے میرؔ جانتے ہیں اس راہ جو چلے ہیں
۲۱۰ / ۵۸۲