کلامِ میرردیف ن
یہ ترک ہو کے خشن کج اگر کلاہ کریں
۱
یہ ترک ہو کے خشن کج اگر کلاہ کریںتو بوالہوس نہ کبھو چشم کو سیاہ کریں
۲
تمہیں بھی چاہیے ہے کچھ تو پاس چاہت کاہم اپنی اور سے یوں کب تلک نباہ کریں
۳
رکھا ہے اپنے تئیں روک روک کر ورنہسیاہ کر دیں زمانے کو ہم جو آہ کریں
۴
جو اس کی اور کو جانا ملے تو ہم بھی ضعیفہزار سجدے ہر اک گام سربراہ کریں
۵
ہوائے مے کدہ یہ ہے تو فوت وقت ہے ظلمنماز چھوڑ دیں اب کوئی دن گناہ کریں
۶
ہمیشہ کون تکلف ہے خوب رویوں کاگزار ناز سے ایدھر بھی گاہ گاہ کریں
۷
اگر اٹھیں گے اسی حال سے تو کہیو توجو روز حشر تجھی کو نہ عذر خواہ کریں
۸
بری بلا ہیں ستم کشتۂ محبت ہمجو تیغ برسے تو سر کو نہ کچھ پناہ کریں
۹
اگرچہ سہل ہیں پر دیدنی ہیں ہم بھی میرؔادھر کو یار تأمل سے گر نگاہ کریں
۲۱۴ / ۵۸۲