کلامِ میرردیف ن

یوں ہی حیران و خفا جوں غنچۂ تصویر ہوں

۱

یوں ہی حیران و خفا جوں غنچۂ تصویر ہوںعمر گزری پر نہ جانا میں کہ کیوں دلگیر ہوں

۲

اتنی باتیں مت بنا مجھ شیفتے سے ناصحاپند کے لائق نہیں میں قابل زنجیر ہوں

۳

سرخ رہتی ہیں مری آنکھیں لہو رونے سے شیخمے اگر ثابت ہو مجھ پر واجب ال تعزیر ہوں

۴

نے فلک پر راہ مجھ کو نے زمیں پر رو مجھےایسے کس محروم کا میں شور بے تاثیر ہوں

۵

جوں کماں گرچہ خمیدہ ہوں پہ چھوٹا اور وہیںاس کے کوچے کی طرف چلنے کو یارو تیر ہوں

۶

جو مرے حصے میں آوے تیغ جمدھر سیل و کاردیہ فضولی ہے کہ میں ہی کشتۂ شمشیر ہوں

۷

کھول کر دیوان میرا دیکھ قدرت مدعیگرچہ ہوں میں نوجواں پر شاعروں کا پیر ہوں

۸

یوں سعادت ایک جمدھر مجھ کو بھی گزاریےمنصفی کیجے تو میں تو محض بے تقصیر ہوں

۹

اس قدر بے ننگ خبطوں کو نصیحت شیخ جیباز آؤ ورنہ اپنے نام کو میں میرؔ ہوں

۲۱۳ / ۵۸۲