ہر جزر و مد سے دست و بغل اٹھتے ہیں خروش

ہر جزر و مد سے دست و بغل اٹھتے ہیں خروشکس کا ہے راز بحر میں یا رب کہ یہ ہیں جوش

About this couplet

This is couplet 1 of 12 in “⁨ہر جزر و مد سے دست و بغل اٹھتے ہیں خروش⁩” in the section Ghazals — Radeef Sheen, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۱ / ۱۲