کلامِ میرردیف ش
ہر جزر و مد سے دست و بغل اٹھتے ہیں خروش
ہر جزر و مد سے دست و بغل اٹھتے ہیں خروشکس کا ہے راز بحر میں یا رب کہ یہ ہیں جوش
ابروئے کج ہے موج کوئی چشم ہے حبابموتی کسی کی بات ہے سیپی کسی کا گوش
ان مغبچوں کے کوچے ہی سے میں کیا سلامکیا مجھ کو طوف کعبہ سے میں رند درد نوش
حیرت سے ہووے پرتو مہ نور آئینہتو چاندنی میں نکلے اگر ہو سفید پوش
کل ہم نے سیر باغ میں دل ہاتھ سے دیااک سادہ گل فروش کا آ کر سبد بہ دوش
جاتا رہا نگاہ سے جوں موسم بہارآج اس بغیر داغ جگر ہیں سیاہ پوش
شب اس دل گرفتہ کو وا کر بزور مےبیٹھے تھے شیرہ خانے میں ہم کتنے ہرزہ کوش
آئی صدا کہ یاد کرو دور رفتہ کوعبرت بھی ہے ضرور ٹک اے جمع تیز ہوش
جمشید جس نے وضع کیا جام کیا ہواوے نصیحتیں کہاں گئیں کیدھر وے ناؤ نوش
جز لالہ اس کے جام سے پاتے نہیں نشاںہے کوکنار اس کی جگہ اب سبو بہ دوش
جھومے ہے بید جائے جوانان میگساربالائے خم ہے خشت سر پیر مے فروش
میرؔ اس غزل کو خوب کہا تھا ضمیر نےپر اے زباں دراز بہت ہو چکی خموش
۱۴۶ / ۵۸۲