کلامِ میرردیف ت

چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبت

۱

چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبتمایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمار محبت

۲

امکاں نہیں جیتے جی ہو اس قید سے آزادمر جائے تبھی چھوٹے گرفتار محبت

۳

تقصیر نہ خوباں کی نہ جلاد کا کچھ جرمتھا دشمن جانی مرا اقرار محبت

۴

ہر جنس کے خواہاں ملے بازار جہاں میںلیکن نہ ملا کوئی خریدار محبت

۵

اس راز کو رکھ جی ہی میں تا جی بچے تیرازنہار جو کرتا ہو تو اظہار محبت

۶

ہر نقش قدم پر ترے سر بیچے ہیں عاشقٹک سیر تو کر آج تو بازار محبت

۷

کچھ مست ہیں ہم دیدۂ پر خون جگر سےآیا یہی ہے ساغر سرشار محبت

۸

بیکار نہ رہ عشق میں تو رونے سے ہرگزیہ گریہ ہی ہے آب رخ کار محبت

۹

مجھ سا ہی ہو مجنوں بھی یہ کب مانے ہے عاقلہر سر نہیں اے میرؔ سزاوار محبت

۱۲۴ / ۵۸۲