کلامِ میرردیف ت
شعر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہت
۱
شعر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہتمرثیے نے دل کے میرے بھی رلایا ہے بہت
۲
بے سبب آتا نہیں اب دم بہ دم عاشق کو غشدرد کھینچا ہے نہایت رنج اٹھایا ہے بہت
۳
وادی و کہسار میں روتا ہوں ڈاڑھیں مار ماردلبران شہر نے مجھ کو ستایا ہے بہت
۴
وا نہیں ہوتا کسو سے دل گرفتہ عشق کاظاہراً غمگیں اسے رہنا خوش آیا ہے بہت
۵
میرؔ گم گشتہ کا ملنا اتفاقی امر ہےجب کبھو پایا ہے خواہش مند پایا ہے بہت
۱۲۳ / ۵۸۲