کلامِ میرردیف ت
کیا کہیں اپنی اس کی شب کی بات
۱
کیا کہیں اپنی اس کی شب کی باتکہیے ہووے جو کچھ بھی ڈھب کی بات
۲
اب تو چپ لگ گئی ہے حیرت سےپھر کھلے گی زبان جب کی بات
۳
نکتہ دانان رفتہ کی نہ کہوبات وہ ہے جو ہووے اب کی بات
۴
کس کا روئے سخن نہیں ہے ادھرہے نظر میں ہماری سب کی بات
۵
ظلم ہے قہر ہے قیامت ہےغصے میں اس کے زیر لب کی بات
۶
کہتے ہیں آگے تھا بتوں میں رحمہے خدا جانیے یہ کب کی بات
۷
گو کہ آتش زباں تھے آگے میرؔاب کی کہیے گئی وہ تب کی بات
۱۲۶ / ۵۸۲