کلامِ میرردیف ت

ہوتی ہے گرچہ کہنے سے یارو پرائی بات

۱

ہوتی ہے گرچہ کہنے سے یارو پرائی باتپر ہم سے تو تھنبے نہ کبھو منہ پر آئی بات

۲

جانے نہ تجھ کو جو یہ تصنع تو اس سے کرتس پر بھی تو چھپی نہیں رہتی بنائی بات

۳

لگ کر تدرو رہ گئے دیوار باغ سےرفتار کی جو تیری صبا نے چلائی بات

۴

کہتے تھے اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے لیکوہ آ گیا تو سامنے اس کے نہ آئی بات

۵

اب تو ہوئے ہیں ہم بھی ترے ڈھب سے آشناواں تو نے کچھ کہا کہ ادھر ہم نے پائی بات

۶

بلبل کے بولنے میں سب انداز ہیں مرےپوشیدہ کب رہے ہے کسو کی اڑائی بات

۷

بھڑکا تھا رات دیکھ کے وہ شعلہ خو مجھےکچھ رو سیہ رقیب نے شاید لگائی بات

۸

عالم سیاہ خانہ ہے کس کا کہ روز و شبیہ شور ہے کہ دیتی نہیں کچھ سنائی بات

۹

اک دن کہا تھا یہ کہ خموشی میں ہے وقارسو مجھ سے ہی سخن نہیں میں جو بتائی بات

۱۰

اب مجھ ضعیف و زار کو مت کچھ کہا کروجاتی نہیں ہے مجھ سے کسو کی اٹھائی بات

۱۱

خط لکھتے لکھتے میرؔ نے دفتر کیے رواںافراط اشتیاق نے آخر بڑھائی بات

۱۲۷ / ۵۸۲