کلامِ میرردیف ت
ہوتی ہے گرچہ کہنے سے یارو پرائی بات
ہوتی ہے گرچہ کہنے سے یارو پرائی باتپر ہم سے تو تھنبے نہ کبھو منہ پر آئی بات
جانے نہ تجھ کو جو یہ تصنع تو اس سے کرتس پر بھی تو چھپی نہیں رہتی بنائی بات
لگ کر تدرو رہ گئے دیوار باغ سےرفتار کی جو تیری صبا نے چلائی بات
کہتے تھے اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے لیکوہ آ گیا تو سامنے اس کے نہ آئی بات
اب تو ہوئے ہیں ہم بھی ترے ڈھب سے آشناواں تو نے کچھ کہا کہ ادھر ہم نے پائی بات
بلبل کے بولنے میں سب انداز ہیں مرےپوشیدہ کب رہے ہے کسو کی اڑائی بات
بھڑکا تھا رات دیکھ کے وہ شعلہ خو مجھےکچھ رو سیہ رقیب نے شاید لگائی بات
عالم سیاہ خانہ ہے کس کا کہ روز و شبیہ شور ہے کہ دیتی نہیں کچھ سنائی بات
اک دن کہا تھا یہ کہ خموشی میں ہے وقارسو مجھ سے ہی سخن نہیں میں جو بتائی بات
اب مجھ ضعیف و زار کو مت کچھ کہا کروجاتی نہیں ہے مجھ سے کسو کی اٹھائی بات
خط لکھتے لکھتے میرؔ نے دفتر کیے رواںافراط اشتیاق نے آخر بڑھائی بات
۱۲۷ / ۵۸۲