کلامِ میرردیف و

جو میں نہ ہوں تو کرو ترک ناز کرنے کو

۱

جو میں نہ ہوں تو کرو ترک ناز کرنے کوکوئی تو چاہیے جی بھی نیاز کرنے کو

۲

نہ دیکھو غنچۂ نرگس کی اور کھلتے میںجو دیکھو اس کی مژہ نیم باز کرنے کو

۳

نہ سوئے نیند بھر اس تنگنا میں تا نہ موئےکہ آہ جا نہ تھی پا کے دراز کرنے کو

۴

جو بے دماغی یہی ہے تو بن چکی اپنیدماغ چاہیے ہر اک سے ساز کرنے کو

۵

وہ گرم ناز ہو تو خلق پر ترحم کرپکارے آپ اجل احتراز کرنے کو

۶

جو آنسو آویں تو پی جا کہ تا رہے پردہبلا ہے چشم تر افشائے راز کرنے کو

۷

سمند ناز سے تیرے بہت ہے عرصہ تنگتنک تو ترک کر اس ترک تاز کرنے کو

۸

بسان زر ہے مرا جسم زار سارا زرداثر تمام ہے دل کے گداز کرنے کو

۹

ہنوز لڑکے ہو تم قدر میری کیا جانوشعور چاہیے ہے امتیاز کرنے کو

۱۰

اگرچہ گل بھی نمود اس کے رنگ کرتا ہےولیک چاہیے ہے منہ بھی ناز کرنے کو

۱۱

زیادہ حد سے تھی تابوت میرؔ پر کثرتہوا نہ وقت مساعد نماز کرنے کو

۲۱۶ / ۵۸۲